کسی زمانے میں یہ بھی میرے آئیڈیل ہوا کرتے تھے۔

کسی زمانے میں یہ میرے آئیڈیل ہوا کرتے تھے لیکن جب تاریخ کے اوراق پلٹے تو وہاں پہ جمہوریت اور آئین پڑھنا نصیب ہوا پھر وہی آئیڈیل شخص ناپسندیدہ شخصیت بن گئی، جب جنرل پرویز مشرف نے ٹیک اوورکیا تو ہم چھوٹے سے تھے، بڑا دبنگ بولتا تھا مخالفین کو ڈراتا دھکماتا تھا میڈیا پہ صرف مشرف کا ہی طوطی بولتا تھا، چھوٹی زہنیت کا یہی قصور ہوتا ہے کہ ان کو ہر روڈ اور مغرور بات اچھی لگتی ہے، انہی لوگوں سے متاثر ہوتے ہیں جو بڑا بولتے ہیں بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں ،طاقت کے گھمنڈ میں بولتے ہیں، لیکن آہستہ آہستہ انسان جب میچور ہوتا ہے، اس کو باتوں سے نہیں مطلب سے لگاو ہوجاتا ہے، وہ یہ نہیں دیکھتا کہ کون اپنے بارے میں کتنی بڑی بڑی باتیں کرتا ہے ،بلکہ وہ حقائیق کو پرکھنے کی کوشش کرتا ہے اصلی کردار تک پہنچنے کی جتن میں لگا رہتا ہے، یہ مرحلہ انسان کی زندگی کا مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ اس میں سارے کردار الٹ مل جاتے ہیں، ہمارے ارمانوں کا خون ہوجاتا ہے، بحرحال سب سے پہلے اس شخص سے لگاو تب ختم ہوا جب انکی کتاب پڑھی، میں اپنے تخیلات میں انہیں بہت بڑی زہنیت اور اعلی ظرف سمجھتا تھا ،مگر کتاب سے اندازہ ہوا کہ کردار تو بہت چھوٹا تھا بس قسمت نے یا وقتی طاقت نے نام بہت بڑا بنادیا تھا، پھر آہستہ آہستہ آئین کی پامالی جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ اور انسانیت کا قتل عام یہ سب دیکھ کر ناپسندیدہ ترین شخصیت بن گئی۔
طارق شاہ

عمران خان کو مدت پوری ہونے سے پہلے ہٹانا اپوزیشن کی سب سے بڑی غلطی ہوگی!

عمران خان بہت بڑے بڑے دعوے کرکہ جو بظاہر تو ناممکن تھے لیکن عوام کی ناسمجھی کچھ خلائی مخلوق کی طاقت اور کچھ دھاندلی کی مدد سے اسے کرسی پہ بٹھایا گیا، عوام کی ایک بڑی تعداد یہ سمجھ رہی تھی کہ عمران خان کو اگر کسی کی سپورٹ بھی حاصل ہے تو کرسی تک پہنچ کہ انکو آئینہ دکھائیں گے اور عوام کا بھلا کریں گے مگر عمران خان نیازی صاحب تو اپنے محسنوں کے اتنے تعبیدار نکلے کہ انکی ہر بات پہ لبیک کہہ کر ہر کسی سے دشمنی کے لئے تیار ہوگئے ایک ریٹائیر جرنیل جس نے ملک کے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا جنرل پرویز مشرف انکے خلاف جب عدالت کا حکم آیا تو سیدھا میدان میں اتر گیا اور انکا دفاع کرلیا پھر انکے سب سے بڑے محسن موجودہ چیف آف آرمی سٹاف جناب باجوہ صاحب کی ایکٹینشن کو جب کورٹ نے عوامی عدالت یعنی پارلمنٹ میں بھیج دیا تو وہی عوامی نمائیندے جو دن رات عوام کا نعرہ لگاتے ہیں سر بسجود سب گرگئے اور انکی امامت عمران نیازی نے کی جب جسٹس فائیز عیسی نے انکو آنکھ دکھائی تو عمرانی ٹولے نے بلکہ خود عمران نے انکی تزلیل کی انکو ڈرایا دھمکایا گیا مگرجو حق کی خاطر جیتے ہیں انکو موت کی بھی پرواہ نہیں ہوتی وہ ابھی تک ہر مشکلات کا سامنا کررہے ہیں بحر حال عمران نیازی اپنا ٹینیور تو پورا کریں گے لیکن اسے یہ ٹینیور پورا کروانے کے انکو جو بھی کرنا پڑا انہوں نے پرواہ نہیں کی اب انکی اپنی خواہش ہے کہ عمران اپنا وقت پورا کرنے سے پہلے چلے جائیں تاکہ اسکا یہ ملبہ انکے سر پہ نہ آٰے تو اب کوشش یہ کی جارہی ہے اسکو عدم اعتماد یا کسی طریقے سے نکالا جائے تاکہ عوام انکے کرتوتوں سے بے خبر رہے اور اپنا یہ مشن آئیندہ کے لئے بھی جاری رکھ سکے اپوزیشن بھی شائید راضی ہوچکی ہے مگر یہ انکی سب سے بڑی غلطی ہوگی اسی کا فائیدہ بھی وہی طاقتیں اور عمران خان نیازی کو ہی ہوگا۔

طارق شاہ

میں بطور عام پاکستانی شہری اس بات کا اقراری ہوں کہ ہمیں حق رائے کی آزادی بلکل بھی نہیں ہے

میں بطور ایک عام شہری پاکستان اس بات کا قراری ہوں کہ ہمیں اپنے ملک پاکستان میں حق رائے کی آزادی نہیں ہے ایک عام شہری تو دور یہاں پہ حکومتی تختوں پہ بیٹھے بڑے بڑے وزیربڑے بڑے مشیر وزرائے اعظم تک اتنے بے بس ہیں کہ وہ کسی کا مسیحا بننے کے بجائے اپنا دکھڑا بھی کھل کہ نہیں سناسکتے اسکی بنیادی وجہ سیاسی قیادت میں موجود طاقتور قوتوں کے وہ آلہ کار ہیں جو وقتا فوقتا اپنے آقاوں کے زیر نگرانی حکومتی نظام کی نگرانی کررہے ہوتے ہیں یہاں عدالتوں سے فیصلے فون پہ کروائے جاتے ہیں یہاں جیسے مرضی ہو فیصلے دلوائے جاتے ہیں یہاں ایک ہی عدالت میں ایک ہی شخص ضرورت پڑنے پہ محب وطن بھی ہوتا ہے اور پھر وہی شخص جب طاقتور قوتوں کو کھٹکنے لگتا ہے تو غدار بھی بن جاتا ہے، نہ غداری کے لئے کسی ثبوت کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ ایمانداری کے لئے کسی معیار کی، یہاں اندھا راج چلتا جہاں پہ طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں عوام کے ملازم ہیں جن سے نہ آج تک کوئی پوچھ سکا ہے اور نہ پوچھ سکے گا۔

طارق شاہ

Continue reading “میں بطور عام پاکستانی شہری اس بات کا اقراری ہوں کہ ہمیں حق رائے کی آزادی بلکل بھی نہیں ہے”

مری کا بائیکاٹ وقت کی سب اے بڑی ضرورت ہے

مری کا بائیکاٹ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ہمیں بطور پاکستانی مری کا بائیکاٹ کرنا چاہئے کیونکہ یہی مری ہمارے پاکستان کی بدنامی کا باعث بنے گا!
جب کوئی غیر ملکی سیاح پاکستان آتا ہے وہ جس بھی علاقے میں جائے وہی علاقہ اسکے لئے پاکستان کی حیثئیت رکھتا ہے، اس علاقے کے لوگوں کا رویہ اسکے لئے ملک کا روئیہ ہوتا ہے، تو مری والوں کا حشر تو ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لیا کہ ان میں کتنی انسانیت ہے کیا یہی پہچان پاکستان کی آپ پوری دنیا میں دیکھنا چاہتے ہیں اگر نہیں تو آئے آج سے مری کا بائیکاٹ کرتے ہیں، انکو اتنا ترساتے ہیں جتنا انہوں نے لوگوں کو ترسایا ہے، یہ ایک رات فی کمرہ 50 ہزار مانگنے والے جب 500 کے لئے ترسیں گے تو انکے ہوش ٹھکانیں آجائیں گے، نہ پھر انسانیت سڑکوں پہ زلیل ہوگی اور نہ ہمارے ملک کی بدنامی ،اللہ کی قسم سوات گلگت بلتستان اس مری سے ہزار گناہ خوبصورت ہے ،وہاں کے لوگ مری والوں سے ہزار درجہ بہتر ،تو پھر کیا رکھا ہے مری میں ،اسے ایک ماضی بناو بائیکاٹ کرو اور ملک کو بدنام ہونے سے بچاو اس مشن کو ہم جتنا زیادہ پھیلاسکے یہ ہماری حب لوطنی ہوگی۔ آئیں عہد کرتے ہیں مری نہیں گلگت بلتستان چلتے ہیں سوات چلتے ہیں۔
طارق شاہ

کوہستان کی تاریخ، ثقافت، مسائیل اور وسائیل کے ٹاپک پہ تحریری مقابلہ!

کوہستان کی تاریخ و ثقافت، وسائیل اور مسائیل کے عنوان سے منعقد تحریری مقابلہ!
میرے خیال میں یہ ایک اچھا قدم ہے ، اسی طرح کئی گمنام لکھاری سامنے آئیں گے اور لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی بھی ہوجائے گی، لیکن اس کا جو پہلا حصہ ہے کوہستان کی تاریخ اس پہ میرے جیسا تاریخ سے بے خبر انسان دو لفظ لکھ کہ ہی تحریر ختم ہوجائے گی، اسکے بعد ثقافت، واقعی قابل بحث ٹاپک ہے اور آج کل ہم اپنی ثقافت کو جس تیزی کے ساتھ گنواتے جارہے ہیں یقینا کچھ سال بعد ہم بھول ہی جائیں گے کہ ہماری ثقافت کیا تھی، کچھ سال بعد کیا ہم ابھی سے بھول گئے ہیں، کہ ہماری ثقافت کیا ہے کیونکہ ہمارے آج کل کے نوجوانوں نے اپنی ثقافت کو دوسرے علاقوں کی ثقافت سے مکس کرکہ اسکو اپنی ثقافت کا نام دے کر اسے اور کنفیوز کردیا ہے، اسکا تیسرا حصہ ہے وسائیل تو اس بارے میں قدرے عوام باخبر ہے، ہمارے پاس وسائیل میں سب سے پہلے مین پاور آتی ہے وہ کوہستان میں اللہ کے فضل سے سب سے زیادہ ہے، کچھ سال پہلے کوہستان کے وسائیل میں شائید سب سے پہلے نمبر پر جنگلات آتے تھے، اسی طرح پانی، زرعی زمینیں اور بہت سارے وسائیل موجود ہیں لیکن ان وسائیل سے ہم صحی طریقے سے مستفید نہیں ہوسکتے، اسکی بنیادی وجہ ہماری کم علمی اور تخلیقی صلاحیت کی کمی ہے، ہماری ایک عجیب اسے پتہ نہیں روایت کہیں عادت کہیں یا کیا ،ہم اپنے وسائیل کا مناسب استعمال نہیں کرسکتے، ہم ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی ایک ہی کام پہ سب لگ جاتے ہیں ،جسے نہ صرف وہ کام بیکار ہوجاتا ہے ،بلکہ ہم اپنا سارا کچھ ضائیع کردیتے ہیں اسکی سب سے بڑی مثال ایک زمانے میں جب مکئی اور گندم کی مشینیں خریدنے لگے ،تو سارے لوگوں نے اتنے خریدے کہ کمیلہ بازار سارا مشینوِں کا گڑ بن گیا ،پھر نہ مشین کا کام باقی رہا اور نہ مشین کی اہمیت اب واپڈا کے پیسے داسو ڈیم میں لوگوں کو ملے ان پیسوں سے کئی فیکٹریاں بن سکتی تھی کئی مختلف قسم کے نایاب کاروبار شروع کئیے جاسکتے تھے ،مگر انکا استعمال کیسے ہورہا ہے اور وہ ہمارے کیپیٹل میں کتنا اضافہ کررہے ہیں وہ ہم دیکھ رہے ہیں ،تو یہ تخلیقی سوچ کا نہ ہونا ہی ہمارا سب سے بڑا مسلہ ہے، دوسری چیز اسی تخلیقی سوچ کی کمی کے باعث ہم جس مفلوج سوچ کے تحت اپنے لیڈروں نمائیندوں کا انتخاب کرتے ہیں، وہ بھی ہمارے سامنے ہے، ہر بار ایک کوئی علاقہ متحد ہوجاتا ہے ،پھر قسمت کے سکندروں کا انتخاب کیا جاتا ہے اس میں پھر پتہ نہیں کس کی قسمت جاگ جاتی ہے اور وہ ہمارا انتخاب بن کر ہمارا حکمران بن جاتا ہے، اب میں آتا ہوں آخری عنوان سے نیچے آخری پوائینٹ پہ تو وہ یہ ہے کہ اس مقابلے کے لئے جن ججز کا انتخاب کیا ہے، ان میں سے ایک محمد گل صاحب جو میرے بڑے اچھے دوست ہیں بڑا اچھا لکھتے ہیں لیکن ثقافت، مسائیل اور وسائیل سے انکا کوئی خاص تعلق یا دلچسپی رہی ہو مجھے نہیں معلوم اور دوسرے جج صاحب جن کا نام ثمر خان ثمر ہے انکے بارے میں میں کچھ نہیں جانتا کیونکہ ان سے نہ کبھی واسطہ پڑا اور نہ انکی لکھائی نظر سے گزری اور نہ انکی کوئی خاص جدوجہد کا سنا ہے تو ان دونوں ججز سے انتہائی معزرت کے ساتھ اگر انکی جگہ رزول کوہستانی، طالب جان ابا سندھی اور م ش راشد کا انتخاب کرلیتے تو شائید اس مقابلے کا زاویہ کچھ اور ہوتا، کیونکہ پھر انکا معیار، ۔!”‘:؛/؟ کے علاوہ ان باتوں کے معیار پہ بھی ہوتا کیونکہ انہوں نے ان تمام چیزوں پہ ایک لمبے عرصے جدوجہد بھی کی ،اپنے مجموعے پہ شائیع کئیے اور مختلف فورمز پہ ان مسائیل کے حوالے سے نمائیندگی بھی کی اور انہوں نے ایک لمبے عرصے کے لئے جدوجہد بھی کی ،تو خیر اللہ آپ کے اس مشن کو بھی کامیاب کرے مگر ان تحفظات کے باعث میں اس پروگرام میں شرکت نہیں کرسکا، خیر نہ میں کوئی لکھاری ہوں اور نہ لکھاری کہلانے کا شوقین ،بس میری تو ایک ہی خواہش ہے ،کہ میں اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ سے معاشرے کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرسکوں، میں انشاللہ اپنی یہی جدوجہد اپنے ان ٹوٹے پھوٹے الفاظ کے ساتھ جاری رکھوِں گا، اور اس مقابلے میں شرکت کرنے والے تمام لوگوں کا منتظمین، ججز اور اس پروگرام میں حصہ لینے والے تمام لکھاریوں جیتنے والوں اور ہارنے والوں سب کو ابھی سے دو دن پہلے سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
طارق شاہ

پی ٹی آئی فارن فنڈنگ سکروٹنی کمیٹی رپورٹ!

پی ٹی آئی فارن فنڈنگ سکروٹنی رپورٹ!
اکبر ایس بابر جو پاکستان تحریک انصاف کے فاونڈنگ ممبر تھے انہوں نے کافی عرصہ پہلے یہ کہہ کر تحریک انصاف کو خیر باد کہہ دیا تھا کہ پارٹی کو غیر قانونی فارن فنڈنگ ہوتی ہے، لیکن اکبر ایس بابر کو نظر انداز کیا گیا پھر یہ کیس چلتا رہا جب پی ٹی آئی حکومت میں آئی تو اس وقت بھی انکے سر پہ لٹکی سب سے بڑی تلوار فارن فنڈنگ کیس تھا، مگر پاکستان کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں طاقت عدالتوں پہ بھی اثر انداز ہوتی ہے یہاں کوئی بھی ادارہ نیوٹرل فیصلے نہیں کرسکتا، تحریک انصاف نے حکومت میں ہونے کا فائیدہ اٹھاتے ہوئے پہلے اس کیس پہ سٹے آرڈر نکالا پھر کسی نہ کسی طریقے سے اس کیس کو طوالت دیتے رہے آخر کار سکروٹنی کمیٹی نے اس کیس کی رپورٹ کو منظر عام کردی اور اس رپورٹ کے مطابق اکبر ایس بابر اس وقت جو چیخ رہے تھے وہ بلکل صحی کہہ رہے تھے اس پارٹی کو یہودیوں سے فنڈنگ ہوئی اس کو ہندوں سے بھی فنڈنگ ہوئی، کئی اکاونٹ پی ٹی آئی نے اپنے اثاثوں میں. ظاہر نہیں کیا، چھپایا ان اکاونٹ کی تفصیلات بھی سامنے آگئی، لیکن ان کی بے شرمی کا عالم دیکھیں کہ فواد چوہدری نے اس بدترین رپوٹ جس سے پی ٹی آئی ہمیشہ لاتعلقی کا اظہار کرتی رہی اس کی تفصیلات سامنے آنے کےباوجود اسی ڈھٹائی سے سرخرو ہونے کا اعلان کردیا، فواد چوہدری صاحب آپ تو ہیں ہی سرخرو جب مشرف حکومت میں آئے آپ مشرف کے ساتھ مل کہ سرخرو ہوگئے جب پاکستان پیپلز پارٹی حکومت میں آئی آپ انکے ساتھ ملکہ سرخرو ہوگئے آج پی ٹی آئی حکومت میں ہے تو آپ اسکے ساتھ سرخرو ہوگئے، کل کوئی اور پارٹی حکومت میں آئے گی آپ اسی کے ساتھ ملکہ سرخرو ہوجائیں گے، لیکن اکبر ایس بابر اس رپوٹ پہ سرخرو نہیں ہوسکتے کیونکہ انہوں نے اس پارٹی کو بنانے میں ساتھ دیا اس مقصد کے لئے نہیں جو آج سامنے آیا ہے، بلکہ اس مقصد کے خلاف اس پارٹی کا ساتھ دیا، آپ کسی منشور کے تحت اس پارٹی میں تھوڑی شامل ہوئے ہیں، بلکہ آپ تو اقتدار کی بو سونگ کہ ہی اسی کے شیدائی ہوجاتے ہیں ان ریاست مدینہ کے ٹھیکداروں کا کیا ہوگا جو صبح سے شام تک عمران نیازی کو خلیفہ کا درجہ دے رہے تھے وہ آج کیا یہ بتانے کے قابل ہیں کہ ریاست مدینہ کی تعمیر میں یہودی کا بھلا کیا کام، جو ریاست مدینہ کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال رہا تھا، ان وطن کے وفاداری کے ٹھیکیداروں کا کیا ہوگا جو نواز شریف کا کسی ہندستانی سے رابطے پہ ملک غدار کہہ کہ عمران نیازی کو وفاداری کا سرٹییفیکیٹ دے رہے تھے، انصاف کے ان ٹھیکداروں کا کیا ہوگا جو نواز شریف سے منی ٹریل مانگ رہے تھے، یہاں تو سورس سامنے ہے، اس سورس کا پاکستان کی خیر خواہی سے تعلق کا کوئی امکان نہیں ،پھر بھی آج وہ کس منہ سے کسی سے منی ٹریل مانگیں گے، پہلی غداری یہ کہ اپنے پارٹی اکاونٹ کو الیکشن کمیشن میں ظاہر نہیں کیا، چھپایا، دوسرا قصور یہ کہ جو قصور اور گناہ خود کرتے رہے اس کا الزام وہ دوسروں پہ لگاکہ اپنا جرم چھپانے کی کوشش کرتے رہے، تیسرا گناہ یہ کہ اپنا تعلق ان یہودیوں اور ہندوں سے چھپاتے رہے جو انکے مالی معاون رہے چوتھا گناہ یہ کہ آج وہ سارے گناہ سامنے آنے پہ وہ شرمندہ بھی نہیں ہیں بلکہ انکے چمچے آج بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کہہ رہے کہ ہم سرخرو ہوئے ہیں، فواد چوہدری اور شیخ رشید تو ہمیشہ سرخرو ہیں کیونکہ انکا ساتھ ہمیشہ کرسی کے ساتھ ہوتا ہے اور کرسی کبھی کمزور نہیں ہوتی، آج اس رپوٹ کے بعد نہ عمران نیازی کے پاس اور نہ کسی بھی زی شعور انسان کے پاس عمران کو سپورٹ کرنے کا کوئی جواز ہے لیکن مجھے امید ہے کہ وہ بے شعور اور عقل اور حقیت سے منہ پھیرے ہوئے بے حس لوگ آج بھی خود کو زلیل کرکہ اس زلالت کا دفاع کرنے کی بھی کوشش کریں گے۔
طارق شاہ

طاقتور قوتیں اب بھی اپنے تعبیدار کٹھ پتلی کے ساتھ ہے، بلدیاتی الیکشن میں پی ٹی آئی کو ہروانا بھی ایک سازش ہے

بلدیاتی الیکشن میں عمران نیازی کی بدترین شکست کو دیکھ کر سیاسی جماعتوں اور عوام کا رجحان بدل رہا ہے تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ اب شائید طاقتور قوتوں نے ان سے اپنا ہاتھ ہٹایا ہے تو ایسا بلکل بھی نہیں ہے وہ میرے تجزئیے کے مطابق اب بھی اپنے اس کٹھ پتلی سے اتنے ہی خوش ہیں جتنے وہ پہلے تھے، اس نے ایسا کیا ہی کیا ہے جو وہ ان سے ناراض ہوجائیں یہ انکی تعبیداری میں پوری قوم بھی انکے قدموں میں پیش کرنے کو تیار بیٹھا ہے، بلدیاتی الیکشن میں ہارنے کے بعد جان بوجھ کہ ایک شوشا چھوڑ دیا ہے کہ اب شائید طاقتور قوتوں نے انکی پشت پناہی چھوڑ دی ہے تو یہ ان تمام سیاسی جماعتوں کی بھی اور عوام کی بھی بھول ہوگی عوام کو بھی اور دوسری سیاسی جماعتوں بھی اعتماد مییں لانے کے لئے جان بوجھ کہ پلاننگ کے تحت بلدیاتی الیکشن میں انکی مدد نہیں تاکہ عوام بھی بیوقوف بن سکے سیاسی جماعتیں بھی اور عمران نیازی کو بھی آنکھیں دکھادی ہے کہ اگر عوام کی نمائیندگی کرنے کی کوشش کی تو آپ کی اوقات اتنی سی ہے تو انہوں نے اس الیکشن کے چھوٹے سے ایپیسوڈ سے مختلف لوگوں کو مختلف پیغام دیا ہے

یہ بتا کہ قافلہ کیوں تھما؟

یہ بتا کہ قافلہ کیوں تھما!
جب ٹی ایم اے آفس داسو کوہستان کو آگ لگی ایک بھونچال سا مچ گیا، سوال اٹھا کہ آفس جلایا گیا یا جل گئی، اکثر لوگوں کی رائے تھی کہ جلی نہیں بلکہ جلایا گیا، میں نے اس وقت ایک موقف اپنایا تھا جو اس وقت کئی لوگوں کو برا بھی شائید لگا، میرا موقف یہ تھا کہ اس معاملے کو ہمیں کسی فرد واحد یا محدود لوگوں سے جوڑ کہ کمزور نہیں کرنا چاہئے بلکہ اسے ایک ایشو بنا کہ ہائیلائیٹ کرنا چاہئے اور نرم مزاجی سے اس کا فالو اپ کرنا چاہئے اور کرکہ اس کیس کو کسی منطقی انجام تک پہنچانا چاہئے ،خدشہ تو اس دن بھی میرا یہی تھا کہ کچھ دن یہ ہنگامہ برپا رہے گا ،پھر حسب روایت بھول جائیں گے اور حسب روٹین کمیٹی، کمیٹی کی رپورٹ اور رپورٹ کے بعد کیس کو کوئی خوبصورت موڑ دے کر موڑدینا یہ تو روز کے معمول کی باتیں ہیں، بحرحال میرے خیال میں اسی طرح ہوا آج اس وقت کا ایک پرگروام دیکھ کر میرا بھی سویا ہوا ضمیر تھوڑا سا جاگ گیا ،سوچا سب کو ایک ہلکا سا جھٹکا دوں، پروگرام تھا حسن فاروق عثمانی کا اور اس پرگرام کے سب سے مزے کی بات یہ تھی کہ اس میں کسی بھی ایک بندے کا موقف یہ نہیں تھا کہ شفاف انکوائیری نہیں ہونی چاہئے، بلکہ سب کا موقف تھا کہ انکوائیری ہونی چاہئے اور کرداروں کو سخت سے سخت سزا ہونی چاہئے، اکثر لوگوں کا خدشہ تھا کہ آگ لگی نہیں بلکہ لگائی گئی ہے اور لگانے والوں کا بھی نام بتارہے تھے ایک صاحب نے تو کاروائی نہ ہونے کی صورت میں عوام کے رد عمل سے بھی اینکر پرسن کو آگاہ کیا تھا، مگر وہ صاحب شائید بھول گئے تھے کہ یہ پندرہ دن یاداشت والی عوام ہے پندرہ دن کے بعد سب کچھ بھول جاتے ہیں ،ایک بات سن کر میں کافی حیرت زدہ تھا ،کہ ہر بندے کی زبان پہ ایک بات مشترکہ تھی وہ بات تھی 22 کروڑ کی کہ محکمے نے 22 کروڑ کی کرپشن کی ہے اور اسے چھپانے کے لئے آگ لگایا گیا ہے، انکی اس بات کو سن کر میں حیرت زدہ اسلئے ہوا کہ کیا واقعی اس عوام کو یہ نہیں پتہ کہ 22 کروڑ کرپشن کوہستان کے ایسے کسی محکمے میں چھوٹی سی کرپشن ہے اتنی تو کئی محکموں میں روزانہ کے حساب سے ہوتی ہے، اگر واقعی نہیں پتہ تو ہم بڑی لاعلم قوم ہے اور اگر پتہ ہوتے ہوئے انجان بن رہے ہیں تو پھر ہم بڑی منافق قوم ہیں، میرا آج بھی موقف وہی ہے کہ ہمیں اس کیس کو بھولنا نہیں چاہئے اسکا فالواپ کرنا چاہئے جو بھی کردار ملوث ہو ان کرداروں کو سزا ملنی چاہئے، تاکہ نہ صرف اس بائیس کروڑ بلکہ کوہستان کو لوٹنے والے تمام محکموں کو سبق بھی مل جائے اور ہمیں حوصلہ بھی مل جائے کہ ہم ہر محکمے کی کرپشن کو سامنے لاتے رہیں اور اس بائیس کروڑ کے ساتھ سارے بائیس سو کروڑ یا ارب کا حساب بھی سامنے آجائے، میں خود سمیت سب سے اپیل کرتا ہوں کہ خدا را کسی فرد واحد کو فوکس بنائے بغیر اپنے مفاد کو بغل میں رکھ کہ کسی کو زاتی تنقید کا نشانہ بنائے بغیر ہمیں اب چیزوں کو ایکسپوز کرنا چاہئے ساری کرپشن جو ہماری نظروں کے سامنے ہورہی ہے اسے روزانہ کے حساب سے ایکسپوز کرنا چاہئے اور ہر فرد کو اسے اپنا مسلہ سمجھ کر اچھالنا چاہئے تاکہ ہمارا صرف یہ بائیس کروڑ یا بائیس سو کروڑ نہیں بلکہ آنے والے بائیس کھرب بچ جائیں اور انکا غبن دینا والا یہ نہ سوچ سکے کہ بس اس قوم کا پندرہ دن کا رد عمل ہے کہہ کر مزید نہ لوٹیں کوہستان میں جو کرپشن ہورہی ہے اس کا زمہ دار سب سے پہلے میں خود ہوں اس کے بعد پچھتر پرسنٹ ہمارے لوگ اسی کرپشن میں شامل ہے کیونکہ اس 75 پرسنٹ میں کچھ براہ راست شامل ہوتے ہیں کچھ ساتھ دیتے ہیں اور کچھ دیکھ کہ خاموش ہوجاتے ہیں اور اگر کچھ بولتے بھی ہیں تو تبھی بولتے ہیں جب اسکے پیچھے انکا کوئی زاتی مطلب شامل ہوتا ہے، جس دن ہم یہ سارے رابطے واسطے اور مجبوریوں پہ پاوں رکھ کہ وبانگ دھل بولنے لگیں گے وہ دن پھر اس قوم کی خوشحالی کا کا دن ہوگا اور ایک شخص بھی پورے قوم کی تقدیر بدلنے کے لئے کافی ہوگا اللہ ہمیں سچ حق اور قوم کے مفاد میں بولنے کی سوچنے کی اور عمل کرنے کی توفیق عطا کرے۔

مسلمان دہشت گرد نہیں بلکہ دہشت گردی کو مسلمانوں سے جوڑا جاتا ہے!

جب سے لفظ دہشت گردی ایجاد ہوا ہے اکثر اوقات اسے مسلمانوں کے لئے ہی استعمال کیا جاتا رہا ہے، قتل و غارت، مار، دھاڑ یہ سب کچھ مسلمانوں سے زیادہ دوسرے مذاہب کے لوگوں میں پایا جاتا ہے مگر پھر بھی اس لفظ کو مسلمانوں سے جوڑ کر اتنی تشہیر کی گئی کہ منہ سے یہ لفظ نکلتے ہی خود بخود سننے والے کی توجہ مسلمانوں کی طرف چلی جاتی ہے، بحرحال یہ کیسے اور کتنی مضبوط سازش کے تحت کیا گیا یہ ایک بہت طویل بحث ہے مگر طالبان کا اچانک دہشت گرد سے حکمران بن جانا اور دنیا کو بنا ڈبیٹ کے انہی دہشت گردوں کو دہشت گرد کے بجائے حکمران ماننا یہ سب رہتی دنیا کے لئے ایک بہت بڑا سبق ہے، انہوں نے کبھی پرواہ نہیں کی کہ دنیا انہیں کیا کہتی ہے بلکہ انہوں نے ہمیشہ اپنے مشن پہ فوکس رکھا اور آخر کار پوری دنیا کے سامنے سپر پاور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی بیس سالوں میں بنائی گئی سلطنت کو بیس دنوں میں بڑی آسانی کے ساتھ قبضہ کرکہ نہ صرف پوری دنیا کو حیران کردیا بلکہ پوری دنیا میں داڑھی اور پگڑی کا وقار بحال کیا جب انسان ہمت کرتا ہے تو منزل اسے کسی نہ کسی دن ضرور مل ہی جاتی ہے۔

طارق شاہ

قصور سارا اس قوم کا جو منشور کے بجائے ترانوں کو اور کارکردگی کے بجائے دعوں اور وعدوں پہ بھروسہ رکھتے ہیں

اس قوم کا کوئی معیار ہی نہیں ہے اسی لئے ان پہ جسے مرضی چاہے نمائیندہ منتخب کیا جاتا ہے اور پھر 5 سال کسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر حکومت گزار دی جاتی ہے، جسے مرضی ہو ہیرو بناکہ قوم پہ مسلط کیا جاتا ہے پھر اسی ہیرو کو غدار ٹھہرایا جاتا یہ دونوں فیصلہ ایک ہی عمارت سے آتے ہیں لیکن اسی ایک شخصیت پہ یہ دو مختلف فیصلے آنے پہ کوئی اس عمارت سے یہ نہیں پوچھ سسکتا کہ آیا پہلے فیصلہ سنانے والا غلط تھا یا آپ غلط ہیں اگر ان دونوں میں کوئی غلط ہو اس بات کی صفائی کرکہ ان میں سے بھی اس غلط کو وہی یا اس سے سخت سزا ہونی چاہئے جو سازش کا حصہ رہا ہو لیکن ایسا نہیں ہوتا اس جانب ہم دیکھ بھی نہیں سکتے ہم ان سے پوچھ ہی نہیں سکتے کیونکہ یہ شعور ہمیں آج تک کسی نے دیا ہی نہیں اور نہ ہم میں اتنی ہمت اور سمجھ داری ہے، کہ ہم خود سے سوال اٹھاسکے مسلہ اشخاص کا نہیں ہے مسلہ معاشرے کا ہے مسلہ قانون کا ہے، مگر ہم نے کبھی اس طرف توجہ ہی نہیں دی کیونکہ ہم ابھی شعور کے اس درجے پہ نہیں پہنچ سکے جہاں بیٹھ کر نیوٹرل زہنیت سے سوچا جسکتا ہے، توجہ کی ضرورت ہے مگر شائید یہ خواب ارمان بن کر رہ جائے کیونکہ یہ معاشرہ روز بروزاس لحاظ سے مزید تنزلی تنظلی کی طرف جارہا ہے مگر ہم پہ آواز اٹھانا لازم اسلئیے ہمیں خاموشی کے بجائے اپنی کوشش جاری رکھنی چاہئے اگر کسی اور کے اندر شعور نہ لاسکے تو کم ازکم ہمیں تو احساس ہو اللہ اس قوم کو چاپلوسی کے دلدل سے نکالکر حقیقت پسندی اور حق گو ئی پہ ڈال دے تاکہ ہم ایک قوم بن سکے۔

طارق شاہ

Continue reading “قصور سارا اس قوم کا جو منشور کے بجائے ترانوں کو اور کارکردگی کے بجائے دعوں اور وعدوں پہ بھروسہ رکھتے ہیں”
Create your website with WordPress.com
Get started